میرا سوال یہ ہے کہ میں نے ایک بریلوی عالم کے بیان میں سنا ، وہ دیوبند کے عظیم عالم کے فتوی کو غلط کہ رہے تھے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ فتوی رشیدیہ میں لکھا ہے کہ کوا کھانا حلال ہے ؟ کیا اس میں حقیقت ہے؟